بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 27 از 67
حدیث نمبر: 24979 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، ابْنِ سِيرِينَ ، قَتَادَةُ ، كَثِيرٌ ، عَبْدُ رَبِّهِ ، أَبِي عِيَاضٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَرِهَ الصَّلَاةَ فِي مَلَاحِفِ النِّسَاءِ" . قَالَ قَالَ قَتَادَةُ : وَحَدَّثَنِي إِمَّا قَالَ: كَثِيرٌ ، وَإِمَّا قَالَ: عَبْدُ رَبِّهِ ، شَكَّ هَمَّامٌ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ , عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ لِعَائِشَةَ، عَلَيْهَا بَعْضُهُ وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عورتوں کے لحاف میں نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24979]
حکم دارالسلام
الحديث الأول: إسناده ضعيف لارساله - الحديث الثاني: إسناده حسن
الحكم: الحديث الأول: إسناده ضعيف لارساله - الحديث الثاني: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24980 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24980]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 24981 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " سَابَقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَبَقْتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24981]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 24982 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْكِرْمَانِيُّ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْكِرْمَانِيُّ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّتَاهُ، حَدِّثِينِي شَيْئًا سَمِعْتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطَّيْرُ تَجْرِي بِقَدَرٍ"، وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اماں جان! مجھے کوئی ایسی حدیث سنائے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پرندے بھی تقدیر کے مطابق ہی اڑتے ہیں (اس لئے کسی کے دائیں بائیں اڑنے میں نحوست نہیں ہے) اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھی فال سے خوش ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24982]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره دون قوله: الطير تجري بقدر فحسن، حسان حسن الحديث
الحكم: حديث صحيح لغيره دون قوله: الطير تجري بقدر فحسن، حسان حسن الحديث
حدیث نمبر: 24983 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِهِ وَبِيصُ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24983]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عطاء ابن السائب، م: 746
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عطاء ابن السائب، م: 746
حدیث نمبر: 24984 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ، فَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ آمُرَهُمْ بِذَلِكَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، مجھے ان سے یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24984]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24985 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، مَعْمَرٌ ، وَنُعْمَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , وَنُعْمَانُ ، أو أحدهما، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ، وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ شَيْئًا يُؤْتَى إِلَيْهِ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا سُئِلَ شَيْئًا قَطُّ فَمَنَعَهُ إِلَّا أَنْ يُسْأَلَ مَأْثَمًا، فَإِنَّهُ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات کے بعد جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دور کرنے کے لئے آتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سخاوت میں تیز آندھی سے بھی زیادہ ہوجاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24985]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة
حدیث نمبر: 24986 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدَنَا أُمُّ سَلَمَةَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جُنْحِ اللَّيْلِ، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ شَيْئًا صَنَعَهُ بِيَدِهِ، قَالَتْ: وَجَعَلَ لَا يَفْطِنُ لِأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: وَجَعَلْتُ أُومِئُ إِلَيْهِ حَتَّى فَطَنَ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: أَهَكَذَا الْآنَ، أَمَا كَانَتْ وَاحِدَةٌ مِنَّا عِنْدَكَ إِلَّا فِي خِلَابَةٍ كَمَا أَرَى. وَسَبَّتْ عَائِشَةَ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاهَا فَتَأْبَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُبِّيهَا". فَسَبَّتْهَا حَتَّى غَلَبَتْهَا، فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ، فَقَالَتْ: إِنَّ عَائِشَةَ سَبَّتْهَا، وَقَالَتْ لَكُمْ وَقَالَتْ لَكُمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ: اذْهَبِي إِلَيْهِ فَقُولِي: إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَنَا وَقَالَتْ لَنَا، فَأَتَتْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ". فَرَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ، فَذَكَرَتْ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا، فَقَالَ: أَمَا كَفَاكَ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكَ فَاطِمَةُ، فَقُلْتَ لَهَا:" إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ آئی ہوئی تھیں، رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لائے اور ان سے دل لگی کرتے ہوئے انہیں ہاتھ سے چھیڑنے لگے، انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ وہاں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف اشارے کرنے لگی جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھ گئے، یہ دیکھ کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیا اب اس طرح ہوگا، کیا ہم میں سے کوئی عورت جب آپ کے پاس خلوت میں ہوتی ہے تو کیا اس طرح ہوتا ہے جیسے میں اب دیکھ رہی ہوں، پھر وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سخت ست کہنے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں روکنے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ نہ مانیں، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم بھی ان سے بدلہ لو، چنانچہ میں نے ان سے بدلہ لیا اور ان پر غالب آگئی۔ اس کے بعد حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ وہاں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں اور انہیں بتایا کہ عائشہ نے انہیں سخت ست کہا ہے اور تمہیں بھی اس طرح کہا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عائشہ نے ہمیں اس طرح کہ ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ساری بات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا رب کعبہ کی قسم! وہ تمہارے باپ کی چہیتی ہے، اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ واپس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلی گئیں اور ان سے یہ بات ذکر کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ عائشہ نے ہمیں اس اس طرح کہا ہے اور فاطمہ آپ کے پاس آئیں تو آپ نے ان سے کہہ دیا کہ رب کعبہ کی قسم! وہ تمہارے باپ کی چہیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24986]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فى متنه، على بن زيد ضعيف وأم محمد مجهولة
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فى متنه، على بن زيد ضعيف وأم محمد مجهولة
حدیث نمبر: 24987 مسند احمد
أَزْهَرُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أُمِّ مُحَمَّدٍ
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ , قَالَتْ: وَكَانَتْ تَغْشَى عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمِ بْنِ أَخْضَرَ، إِلَّا أَنَّ سُلَيْمًا قَالَ: أُمُّ سَلَمَةَ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 24988 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے احرام کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24988]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5928
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5928
حدیث نمبر: 24989 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُقَبِّلُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24989]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1976، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1976، م: 1106
حدیث نمبر: 24990 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَبَاهُ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ : أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ: التَّيَمُّنَ بِمَا اسْتَطَاعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
الحكم: إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
حدیث نمبر: 24991 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ:" أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، يَغْرِفُ قَبْلَهَا وَتَغْرِفُ قَبْلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے پہلے چلو بھرنے کی کوشش کرتے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 273، م: 361
الحكم: إسناده صحيح، خ: 273، م: 361
حدیث نمبر: 24992 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَبُو عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا سَمِعَتْهُ، يَقُولُ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَا أَسْكَرَ الْفَرْقُ، فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کی ایک بڑی مقدار پینے سے نشہ چڑھتا ہوا۔ اسے ایک چلو بھر پینا بھی حرام ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24993 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَدَّانُ، فَقِيلَ لَهَا: مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ" ، فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24993]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد منقطع لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد منقطع لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24994 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمَّا فَرَغَ مِنْ الْأَحْزَابِ، دَخَلَ الْمُغْتَسَلَ لِيَغْتَسِلَ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: أَوَقَدْ وَضَعْتُمْ السِّلَاحَ؟ مَا وَضَعْنَا أَسْلِحَتَنَا بَعْدُ، انْهَدْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مِنْ خَلَلِ الْبَابِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ خندق سے واپس آئے اور اسلحہ اتار کر غسل فرمانے لگے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ نے اسلحہ رکھ بھی دیا؟ واللہ میں نے تو ابھی تک اسلحہ نہیں اتارا، آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجایئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام دروازے کے درمیان سے نظر آرہے تھے اور ان کے سر پر گردوغبار اٹا ہوا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1769
الحكم: إسناده صحيح، م: 1769
حدیث نمبر: 24995 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، هِشَامٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَيْنِ، فَأَضَعُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ، وَأَقُولُ: امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، بِيَدِكَ الشِّفَاءُ، لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نظر بد سے حفاظت کے لئے دم کرتی تھی اور وہ اس طرح کہ میں اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھتی اور یہ دعا کرتی اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24996 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: فِي رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ" لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تہجد کی نماز میں رکوع میں لا الہ الا انت کہتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24997 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَفَّانُ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا صُنِعَ بِالْيَمَنِ، وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يَدْعُونَ الْمُلَبَّدَةَ، قَالَ بَهْزٌ: تَدْعُونَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو بردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے سامنے ایک چادر جسے ملبدہ کہا جاتا ہے اور ایک موٹا تہبند نکالا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہی دو کپڑوں میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24997]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5818، م: 2080
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5818، م: 2080
حدیث نمبر: 24998 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، خَالِدٌ ، عِكْرِمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ، فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ اعتکاف کیا تو انہیں ایک طے شدہ حد سے زیادہ ایام آنے لگے۔ اور وہ زردی اور سرخی دیکھتی تھیں اور بعض اوقات ہم ان سے نیچے طشت رکھ دیتے تھے جبکہ وہ نماز پڑھ رہی ہوتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2037
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2037