عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمَّا فَرَغَ مِنْ الْأَحْزَابِ، دَخَلَ الْمُغْتَسَلَ لِيَغْتَسِلَ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: أَوَقَدْ وَضَعْتُمْ السِّلَاحَ؟ مَا وَضَعْنَا أَسْلِحَتَنَا بَعْدُ، انْهَدْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مِنْ خَلَلِ الْبَابِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ خندق سے واپس آئے اور اسلحہ اتار کر غسل فرمانے لگے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ نے اسلحہ رکھ بھی دیا؟ واللہ میں نے تو ابھی تک اسلحہ نہیں اتارا، آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجایئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام دروازے کے درمیان سے نظر آرہے تھے اور ان کے سر پر گردوغبار اٹا ہوا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1769
الحكم: إسناده صحيح، م: 1769