بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 52 از 67
حدیث نمبر: 25479 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، سُفْيَانَ ، ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى أَهْلِ قَرْيَتِهِ.
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25480 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، عُمَارَةَ ، أَبِي عَطِيَّةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، خَيْثَمَةَ ، أَبِي عَطِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ" . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ثُمَّ سَمِعْتُهَا بَعْدُ لَبَّتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ . [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25480]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1550
الحكم: حديث صحيح، خ: 1550
حدیث نمبر: 25481 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ کسی انسان پر بیماری کی شدت کا اثر نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25481]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5646، م: 2570
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5646، م: 2570
حدیث نمبر: 25482 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ، فَرَغِبَ عَنْهُ رِجَالٌ، فَقَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ آمُرُهُمْ الْأَمْرَ يَرْغَبُونَ عَنْهُ وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی کام میں رخصت عطا فرمائی تو کچھ لوگ اس رخصت کو قبول کرنے سے کنارہ کش رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کا کیا مسئلہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے اعراض کرتے ہیں جن میں مجھے رخصت دی گئی ہے، واللہ میں ان سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا اور ان سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25482]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6101، م: 2356
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6101، م: 2356
حدیث نمبر: 25483 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَرِضَ يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَيَنْفُثُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں " معوذات " پڑھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25483]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5016، م: 2192
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5016، م: 2192
حدیث نمبر: 25484 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ أُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ بَيْتَهُ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی اور انسانی ضرورت کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر نہ آتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25484]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5925، م: 297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5925، م: 297
حدیث نمبر: 25485 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ، إِثْمٌ فَإِذَا كَانَ فِيهِ إِثْمٌ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25485]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 25486 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں اور ان میں سے ایک وتر پڑھتے تھے اور جب نماز سے فارغ ہوجاتے تو پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25486]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6310، م: 736
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6310، م: 736
حدیث نمبر: 25487 مسند احمد
يَزِيدُ ، شَرِيكٌ ، الْمِقْدَامِ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ بَيْتَكِ، وَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَخْتِمُ؟ قَالَتْ:" كَانَ يَبْدَأُ بِالسِّوَاكِ، وَيَخْتِمُ بِرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25487]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك توبع، م: 253
الحكم: حديث صحيح، شريك توبع، م: 253
حدیث نمبر: 25488 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " سَابَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَبَقْتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25488]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 25489 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ، غَمَزَنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ:" تَنَحَّيْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو میرے پاؤں پر چٹکی بھر دیتے اور مجھے پیچھے ہٹنے کے لئے فرما دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25489]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو
الحكم: إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو
حدیث نمبر: 25490 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّهْ، كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ؟ قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، تِسْعًا قَائِمًا، وَثِنْتَيْنِ جَالِسًا، وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ النِّدَاءَيْنِ" . يَعْنِي بَيْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَبَيْنَ الْإِقَامَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، نو رکعتیں کھڑے ہو کر اور دو بیٹھ کر، پھر صبح کی اذان سن کردو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25490]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25491 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ"، قُلْتُ: يَا أُمَّهْ، وَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ؟ قَالَتْ:" الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ لَهُمْ رَبَائِبُ، فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گزر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گزارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنی بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25491]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972
الحكم: حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972
حدیث نمبر: 25492 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" مَا فَعَلَتْ الذَّهَبُ"، قَالَتْ: قُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ:" ائْتِينِي بِهَا" فَجِئْتُ بِهَا، وَهِيَ مَا بَيْنَ التِّسْعِ أَوْ الْخَمْسِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ بِهَا وَأَشَارَ يَزِيدُ بِيَدِهِ: " مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ، أَنْفِقِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا اے عائشہ! وہ سونا کیا ہوا؟ وہ سات سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جب کہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں؟ انہیں خرچ کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25492]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن عمرو
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن عمرو
حدیث نمبر: 25493 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ :" إِنْ كُنْتُ لَأَتَّزِرُ، ثُمَّ أَدْخُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ وَأَنَا حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں جب " ایام " سے ہوتی تو اپنی تہبند اچھی طرح باندھ لیتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ان کے لحاف میں لیٹ جاتی تھی، لیکن وہ تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25493]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 974
الحكم: إسناده صحيح، م: 974
حدیث نمبر: 25494 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجٌ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْنُبُ، ثُمَّ يَنَامُ، فَإِذَا قَامَ، اغْتَسَلَ، وَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، ثُمَّ يَصُومُ بَقِيَّةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور وہ سو جاتے، جب بیدار ہوتے تو غسل کرلیتے اور جس وقت باہر نکلتے تو ان کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن کے بقیہ حصے میں روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25494]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حجاج- إن كان ضعيفا - ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، حجاج- إن كان ضعيفا - ولكن توبع
حدیث نمبر: 25495 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَبِمَ أَدْعُو؟ قَالَ:" قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے معاف فرما دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25495]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25496 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخبرنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ، وَصَلَّى خَلْفَهُ نَاسٌ بِصَلَاتِهِ، ثُمَّ نَزَلَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ، فَكَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ كَثُرُوا فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ، غَصَّ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ، فَلَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا فِي ذَلِكَ: مَا شَأْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَنْزِلْ؟ فَسَمِعَ مَقَالَتَهُمْ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ، وَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَنْزِلَ إِلَيْكُمْ إِلَّا مَخَافَةَ، أَنْ يُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ قِيَامُ هَذَا الشَّهْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، حتیٰ کہ میں نے بعض لوگوں کو " نماز ' نماز " کہتے ہوئے بھی سنا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نہیں نکلے، پھر جب صبح ہوئی تو فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25496]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 924، م: 761
الحكم: حديث صحيح، خ: 924، م: 761
حدیث نمبر: 25497 مسند احمد
يَزِيدُ ، كَهْمَسٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، بِمَ أَدْعُو؟ قَالَ:" قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرمادے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25498 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ بِهَا، وَلَا يَدَعُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ يَصْنَعُ قَبْلَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑ تے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1696، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1696، م: 1321