يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ، غَمَزَنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ:" تَنَحَّيْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو میرے پاؤں پر چٹکی بھر دیتے اور مجھے پیچھے ہٹنے کے لئے فرما دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25489]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو
الحكم: إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو