يَزِيدُ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخبرنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ، وَصَلَّى خَلْفَهُ نَاسٌ بِصَلَاتِهِ، ثُمَّ نَزَلَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ، فَكَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ كَثُرُوا فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ، غَصَّ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ، فَلَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا فِي ذَلِكَ: مَا شَأْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَنْزِلْ؟ فَسَمِعَ مَقَالَتَهُمْ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ، وَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَنْزِلَ إِلَيْكُمْ إِلَّا مَخَافَةَ، أَنْ يُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ قِيَامُ هَذَا الشَّهْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، حتیٰ کہ میں نے بعض لوگوں کو " نماز ' نماز " کہتے ہوئے بھی سنا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نہیں نکلے، پھر جب صبح ہوئی تو فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25496]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 924، م: 761
الحكم: حديث صحيح، خ: 924، م: 761