خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " قُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ"، قَالَ الْقَوْمُ: مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قُولُوا لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ"، قَالَ: مَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قُلْ لَهُمْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں چھینک آگئی، اس نے پوچھا یا رسول اللہ! میں کیا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: الحَمدُ لِلَہِ کہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! میں کیا کہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: الحمدُ للہ کہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم اسے کیا جواب دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے یَرحَمُک اللہ کہو۔ چھینکنے والے نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں انہیں کیا جواب دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم انہیں یھدیکمُ اللہ وَ یصلح بالکم کہہ دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24496]
حکم دارالسلام
حديث حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو معشر ضعيف، وشيخه عبدالله بن يحيى مجهول
الحكم: حديث حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو معشر ضعيف، وشيخه عبدالله بن يحيى مجهول