بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 2 از 67
حدیث نمبر: 24479 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ بِشِمَالِهِ أَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ، وَمَنْ شَرِبَ بِشِمَالِهِ شَرِبَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا ہے اس کے ساتھ شیطان بھی کھانے لگتا ہے اور جو شخص بائیں ہاتھ سے پیتا ہے اس کے ساتھ شیطان بھی پینے لگتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24479]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال موسي بن سرجس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال موسي بن سرجس
حدیث نمبر: 24480 مسند احمد
مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ، بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ، فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ: إِنِّي يَا بُنَيَّ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ: رُدُّوهُ عَلَيَّ، فَرَدُّوهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ، فَاقْبَلِيهِ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطلب بن حنطب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ نفقہ اور کپڑے بھجوائے، انہوں نے قاصد سے فرمایا بیٹا! میں کسی کی کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ جانے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ، لوگ اسے بلا لائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے ایک بات یاد آ گئی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ! جو شخص تمہیں بن مانگے کوئی ہدیہ پیش کرے تو اسے قبول کر لیا کرو، کیونکہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24480]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف، المطلب بن حنطب لم يدرك عائشة
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف، المطلب بن حنطب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 24481 مسند احمد
مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ، وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِيهِ، فَيَمْسَحُ بِهِ وَجْهَهُ، وَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جا رہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جارہے ہیں اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بےہوشیوں میں میری مدد فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24481]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 24482 مسند احمد
مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ، وَهُوَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھنے کے بعد میں کسی پر بھی موت کی شدت کو دیکھ کر اسے ناپسند نہیں کروں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24482]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4446
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4446
حدیث نمبر: 24483 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، فَاطِمَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدِّثُهُ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ، فَسَارَّهَا فَبَكَتْ، ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ: مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَيْتِ، ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ؟ قَالَتْ: " سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ، فَضَحِكْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے، اس دوران حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں، بعد میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم سے کیا سرگوشی کی تھی جس پر تم رونے لگیں اور دوبارہ سرگوشی کی تو تم ہنسنے لگی تھیں؟ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب مجھ سے سرگوشی کی تو مجھے اپنی وفات کی خبر دی تو میں رونے لگی اور دوبارہ سرگوشی کی تو یہ بتایا کہ ان کے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے میں ہی ان سے جا کر ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24483]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3625، م: 2450
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3625، م: 2450
حدیث نمبر: 24484 مسند احمد
مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ فِي تَمْرِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً، أَوْ قَالَ تِرْيَاقًا، أَوَّلَ بُكْرَةٍ عَلَى الرِّيقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مقام عالیہ کی کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھا نے میں شفاء ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24484]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2048
الحكم: إسناده صحيح، م: 2048
حدیث نمبر: 24485 مسند احمد
أَبُو سَلَمَة ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، صَخْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَة ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ: " إِنَّ أَمْرَكُنَّ لَمِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي، وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ" وقَالَ قُتَيْبَةُ: صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ اپنے بعد مجھے تمہارے معاملات کی فکر پریشان کرتی ہے اور تم پر صبر کرنے والے ہی صبر کریں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24485]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24486 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، خَالِدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ، فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ؟ فَقَالَ: " إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے تھے، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کلمات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا اگر تم خیر کی بات کرو تو وہ قیامت تک کے لئے اس پر مہر بن جائیں گے اور اگر کوئی دوسری بات کرو تو وہ اس کا کفارہ بن جائیں گے اور وہ کلمات یہ ہیں سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24486]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24487 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْخِيَارِ، دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا، فَلَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا دُونَ أَبَوَيْكِ". فَقَالَتْ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ.... وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ سورة الأحزاب آية 28 - 29 الْآيَةَ كُلَّهَا. قَالَتْ: فَقُلْتُ: قَدْ اخْتَرْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ، قَالَتْ: فَفَرِحَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24487]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24488 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَنَامُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشٍ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَعَلَيَّ ثَوْبٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ ایک بستر پر سوجاتی تھی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی، البتہ میرے اوپر کپڑا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24488]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن أبى سلمة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن أبى سلمة
حدیث نمبر: 24489 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَمِنْ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالے یا طلوع آفتاب سے پہلے ایک رکعت پالے تو اس نے اس نماز کو پالیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24489]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 609
الحكم: إسناده صحيح، م: 609
حدیث نمبر: 24490 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ غَسَلَ رَأْسَهُ بِخِطْمِيٍّ وَأَشْنَانٍ، وَدَهَنَهُ بِشَيْءٍ مِنْ زَيْتٍ غَيْرِ كَثِيرٍ. قَالَتْ: وَحَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً، فَأَعْمَرَ نِسَاءَهُ وَتَرَكَنِي، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَرَ نِسَاءَهُ وَتَرَكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْمَرْتَ نِسَاءَكَ وَتَرَكْتَنِي؟ فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتَعْتَمِرْ، فَطُفْ بِهَا الْبَيْتَ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةَ، ثُمَّ لِتَقْضِ، ثُمَّ ائْتِنِي بِهَا قَبْلَ أَنْ أَبْرَحَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ" قَالَتْ: فَإِنَّمَا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَصْبَةِ مِنْ أَجْلِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو اپنے سر کو خطمی اور اشنان سے دھو لیتے اور تھوڑا سا زیتون کا تیل لگا لیتے جو زیادہ نہ ہوتا تھا، ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک حج کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی دیگر بیویوں کو عمرہ کرادیا اور مجھے چھوڑ دیا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرمایا کہ اپنی بہن کو لے جاؤ تاکہ یہ عمرہ کرلے اور تم انہیں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرا لاؤ، ان کا عمرہ مکمل ہوجائے تو حصبہ " سے کوچ کرنے کا رات سے پہلے میرے پاس انہیں لے آؤ، گو یا مقام حصبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف میری وجہ سے قیام فرمایا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24490]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل عبدالله ابن محمد بن عقيل
الحكم: إسناده ضعيف لأجل عبدالله ابن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 24491 مسند احمد
هَارُونُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَيْوَةُ ، أَبُو صَخْرٍ ، ابْنِ قُسَيْطٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَقَالَ حَيْوَةُ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، هَلُمِّي الْمِدْيَةَ"، ثُمَّ قَالَ:" اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ"، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ، ثُمَّ ذَبَحَهُ، وَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ"، ثُمَّ ضَحَّى بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگوں والا ایک ایسا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں دیکھتا ہوا، سیاہی میں بیٹھتا ہو (مکمل کالا سیاہ ہو) چنانچہ ایسا جانور قربانی کے لئے پیش کیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کرلو، میں نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھری پکڑی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور یہ کہتے ہوئے ذبح کردیا بسم اللہ، اے اللہ! محمد و آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے اسے قبول فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1976
الحكم: إسناده صحيح، م: 1976
حدیث نمبر: 24492 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَفْلَحُ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا، ثُمَّ وَجَّهَهَا إِلَى الْبَيْتِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں قلادہ باندھ کر اشعار کرتے اور انہیں بیت اللہ کی طرف روانہ کرکے خود مدینہ منورہ میں رہتے اور حلال چیزوں میں سے کچھ بھی اپنے اوپر حرام نہ کرتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24492]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1696، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1696، م: 1321
حدیث نمبر: 24493 مسند احمد
أَبُو الْجَوَّابِ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَطْحَاءِ لَيْلَةَ النَّفْرِ إِدْلَاجًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوچ کی رات " حصباء " سے رات کے وقت روانگی اختیار فرمائی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24493]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 24494 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ، جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا، فَقَالَ: " إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ فُلَانَةً" يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا، فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا، وَإِنْ كَرِهَتْ نَقَرَتْ السِّتْرَ، فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنی کسی بیٹی کے نکاح کا ارادہ فرماتے تو اس کے پردے میں جا کر بیٹھتے اور فرماتے کے فلاں آدمی فلاں عورت کا ذکر کر رہا تھا اور اس میں اس بیٹی کا اور اس سے نکاح کی خواہش رکھنے والے آدمی کا نام ذکر فرماتے، اگر وہ خاموش رہتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا نکاح فرمادیتے اور اگر اسے وہ رشتہ ناپسند ہوتا تو وہ پردہ ٹھیک کرنے لگتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا نکاح نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24494]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أيوب بن عتبة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أيوب بن عتبة
حدیث نمبر: 24495 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ وَهُوَ الْعَيْشِيُّ ، حَمَّادٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ وَهُوَ الْعَيْشِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے لوگ میت پر رو رہے ہوتے ہیں اور اسے قبر میں اس کے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہورہا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24495]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3979، م: 932
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3979، م: 932
حدیث نمبر: 24496 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " قُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ"، قَالَ الْقَوْمُ: مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قُولُوا لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ"، قَالَ: مَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قُلْ لَهُمْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں چھینک آگئی، اس نے پوچھا یا رسول اللہ! میں کیا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: الحَمدُ لِلَہِ کہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! میں کیا کہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: الحمدُ للہ کہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم اسے کیا جواب دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے یَرحَمُک اللہ کہو۔ چھینکنے والے نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں انہیں کیا جواب دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم انہیں یھدیکمُ اللہ وَ یصلح بالکم کہہ دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24496]
حکم دارالسلام
حديث حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو معشر ضعيف، وشيخه عبدالله بن يحيى مجهول
الحكم: حديث حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو معشر ضعيف، وشيخه عبدالله بن يحيى مجهول
حدیث نمبر: 24497 مسند احمد
يُونُسُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نُجَاهِدُ مَعَكُمْ؟ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكِ أَحْسَنُ الْجِهَادِ وَأَجْمَلُهُ الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ أَبَدًا بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا بہترین اور خوبصورت جہاد حج ہی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سننے کے بعد اب میں کبھی حج ترک نہ کروں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1861
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1861
حدیث نمبر: 24498 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدٌ، وَأُتِيَ بِجِنَازَتِهِ، أَمَرَتْ بِهِ عَائِشَةُ أَنْ يُمَرَّ بِهِ عَلَيْهَا، فَشُقَّ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ، " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ نے حضرت سعد کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24498]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، صالح بن عجلان مجهول ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، صالح بن عجلان مجهول ولكن توبع