زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ غَسَلَ رَأْسَهُ بِخِطْمِيٍّ وَأَشْنَانٍ، وَدَهَنَهُ بِشَيْءٍ مِنْ زَيْتٍ غَيْرِ كَثِيرٍ. قَالَتْ: وَحَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً، فَأَعْمَرَ نِسَاءَهُ وَتَرَكَنِي، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَرَ نِسَاءَهُ وَتَرَكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْمَرْتَ نِسَاءَكَ وَتَرَكْتَنِي؟ فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتَعْتَمِرْ، فَطُفْ بِهَا الْبَيْتَ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةَ، ثُمَّ لِتَقْضِ، ثُمَّ ائْتِنِي بِهَا قَبْلَ أَنْ أَبْرَحَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ" قَالَتْ: فَإِنَّمَا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَصْبَةِ مِنْ أَجْلِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو اپنے سر کو خطمی اور اشنان سے دھو لیتے اور تھوڑا سا زیتون کا تیل لگا لیتے جو زیادہ نہ ہوتا تھا، ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک حج کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی دیگر بیویوں کو عمرہ کرادیا اور مجھے چھوڑ دیا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرمایا کہ اپنی بہن کو لے جاؤ تاکہ یہ عمرہ کرلے اور تم انہیں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرا لاؤ، ان کا عمرہ مکمل ہوجائے تو حصبہ " سے کوچ کرنے کا رات سے پہلے میرے پاس انہیں لے آؤ، گو یا مقام حصبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف میری وجہ سے قیام فرمایا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24490]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل عبدالله ابن محمد بن عقيل
الحكم: إسناده ضعيف لأجل عبدالله ابن محمد بن عقيل