هَارُونُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَيْوَةُ ، أَبُو صَخْرٍ ، ابْنِ قُسَيْطٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَقَالَ حَيْوَةُ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، هَلُمِّي الْمِدْيَةَ"، ثُمَّ قَالَ:" اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ"، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ، ثُمَّ ذَبَحَهُ، وَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ"، ثُمَّ ضَحَّى بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگوں والا ایک ایسا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں دیکھتا ہوا، سیاہی میں بیٹھتا ہو (مکمل کالا سیاہ ہو) چنانچہ ایسا جانور قربانی کے لئے پیش کیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کرلو، میں نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھری پکڑی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور یہ کہتے ہوئے ذبح کردیا بسم اللہ، اے اللہ! محمد و آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے اسے قبول فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1976
الحكم: إسناده صحيح، م: 1976