زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَهْدَتْ إِلَيْهَا امْرَأَةٌ تَمْرًا فِي طَبَقٍ، فَأَكَلَتْ بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ، فَقَالَتْ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِ بَقِيَّتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبِرِّيهَا، فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے ایک تھالی میں انہیں کچھ کھجوریں ہدیہ کیں، انہوں نے تھوڑی سی کھالیں اور کچھ چھوڑ دیں، اس عورت نے کہا آپ کو قسم دیتی ہوں کہ آپ یہ باقی کھجوریں بھی کھالیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم پوری کردو، کیونکہ قسم توڑنے والے پر گناہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24835]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن أبا الزاهرية لم يسمع من عائشه
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن أبا الزاهرية لم يسمع من عائشه