بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 25515
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 25515
حدیث نمبر: 25515 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِسَابِ الْيَسِيرِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ فَقَالَ: " الرَّجُلُ تُعْرَضُ عَلَيْهِ ذُنُوبُهُ، ثُمَّ يُتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ، وَلَا يُصِيبُ عَبْدًا شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا قَاصَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! میرا حساب آسان کردیجئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے اور اس سے درگزر کیا جائے، عائشہ! اس دن جس شخص سے حساب کتاب میں مباحثہ ہوا، وہ ہلاک ہوجائے گا اور مسلمان کو جو تکلیف حتیٰ کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25515]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
← پچھلی حدیث (25514) باب پر واپس اگلی حدیث (25516) →