بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 25029
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 25029
حدیث نمبر: 25029 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ". قَالَتْ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ". قَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ. قَالَتْ: فَقُلْتُ: بَلْ السَّامُ عَلَيْكُمْ وَغَضَبُ اللَّهِ إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ بِهِ اللَّهُ؟ قَالَتْ: فَنَظَرَ إِلَيَّ، فَقَالَ:" مَهْ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ، وَلَا التَّفَحُّشَ، قَالُوا قَوْلًا، فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَلَمْ يَضُرَّنَا شَيْئًا، وَلَزِمَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا، وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ: آمِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک یہودی آدمی نے اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اس نے آکر " السام علیک " کہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف " وعلیک " کہہ دیا میں نے کچھ بولنا چاہا لیکن رک گئی، تین مرتبہ وہ اسی طرح آیا اور یہی کہتا رہا، آخر کار میں نے کہہ دیا کہ اے بندروں اور خنزیروں کے بھائی! تم پر ہی موت اور اللہ کا غضب نازل ہو، کیا تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس انداز میں آداب کرتے ہو، جس میں اللہ نے انہیں مخاطب نہیں کیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا رک جاؤ، اللہ تعالیٰ فحش کلامی اور بیہودہ گوئی کو پسند نہیں فرماتا، انہوں نے ایک بات کہی، ہم نے انہیں اس کا جواب دے دیا، اب ہمیں تو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی البتہ ان کے ساتھ قیامت تک لے لئے یہ چیز لازم ہوجائے گی، یہ لوگ ہماری کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا جمعہ کے دن پر حسد کرتے ہیں جس کی ہدایت اللہ نے ہمیں دی ہے اور یہ لوگ اس سے گمراہ رہے، اسی طرح یہ لوگ ہم سے امام کے پیچھے آمین کہنے پر حسد کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25029]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
← پچھلی حدیث (25028) باب پر واپس اگلی حدیث (25030) →