بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 25158
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 25158
حدیث نمبر: 25158 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، فُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ، فَتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَحِقَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، فَقَالَ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ، قَالَ:" تُؤْمِنُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: " ارْجِعْ فَلَنْ نَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ". قَالَ: ثُمَّ لَحِقَهُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَفَرِحَ بِذَاكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهُ قُوَّةٌ وَجَلَدٌ، فَقَالَ: جِئْتُ لِأَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ. قَالَ:" تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" ارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ". قَالَ: ثُمَّ لَحِقَهُ حِينَ ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ:" تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخَرَجَ بِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ بدر کے لئے روانہ ہوئے تو ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل پڑا اور جمرے کے پاس پہنچ کر ان سے جا ملا اور وہ کہنے لگا کہ میں آپ کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونے کے لئے جارہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اللہ اور اسے کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے، اس نے دوبارہ یہی بات دہرائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی وہی سوال پوچھا، اس مرتبہ اس نے اثبات میں جواب دیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25158]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1817
الحكم: إسناده صحيح، م: 1817
← پچھلی حدیث (25157) باب پر واپس اگلی حدیث (25159) →