عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُعَاوِيَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: " بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ، وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرَةٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَلَا أَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ، وَكَانَ لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کتنی رکعتوں پر وتر بناتے تھے؟ انہوں نے فرمایا چار اور تین پر، چھ اور تین پر، دس اور تین پر، لیکن تیرہ رکعتوں سے زیادہ اور سات سے کم پر وتر نہیں بناتے تھے اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730