مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ لِعَائِشَةَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ، وَأَنَا أَسْتَحْيِي مِنْكِ، فَقَالَتْ: سَلْ وَلَا تَسْتَحْيِ، فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ، فَسَأَلَهَا عَنِ الرَّجُلِ يَغْشَى وَلَا يُنْزِلُ؟ فَقَالَتْ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیا کہ میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے شرم آرہی ہے، انہوں نے فرمایا شرماؤ نہیں، پوچھ لو، میں تمہاری ماں ہوں، چنانچہ انہوں نے اس آدمی کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی پر " چھا جائے " لیکن انزال نہ ہو، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24655]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل على بن زيد، فإنه ضعيف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل على بن زيد، فإنه ضعيف