يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتَنَا، قَالَ:" وَمَا شَأْنُهَا"، قُلْتُ: حَاضَتْ. قَالَ: " أَمَا كَانَتْ أَفَاضَتْ"، قُلْتُ: بَلَى، وَلَكِنَّهَا حَاضَتْ بَعْدُ، قَالَ:" فَلَا حَبْسَ عَلَيْكِ". فَنَفَرَ بِهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25603]
حکم دارالسلام
حديث صحيح على قلب فى متنه
الحكم: حديث صحيح على قلب فى متنه