مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا، وَكَانَ مِنْهُ صُعُوبَةٌ، فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، فَإِنَّهُ لَا يَكُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک ایسی اونٹنی پر سوار ہوئیں جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25386]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2594
الحكم: إسناده صحيح، م: 2594