بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24764
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24764
حدیث نمبر: 24764 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ أَمْدَادَ الْعَرَبِ كَثُرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى غَمُّوهُ، وَقَامَ إِلَيْهِ الْمُهَاجِرُونَ يَفْرِجُونَ عَنْهُ، حَتَّى قَامَ عَلَى عَتَبَةِ عَائِشَةَ، فَرَهِقُوهُ، فَأَسْلَمَ رِدَاءَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَوَثَبَ عَلَى الْعَتَبَةِ، فَدَخَلَ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" كَلَّا وَاللَّهِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، لَقَدْ اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ شَرْطًا لَا خُلْفَ لَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَضِيقُ بِمَا يَضِيقُ بِهِ الْبَشَرُ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ بَدَرَتْ إِلَيْهِ مِنِّي بَادِرَةٌ، فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عرب کے دیہاتی لوگ بڑی کثرت سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا، مہاجرین کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے راستہ بنانے لگے اور اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عائشہ کے گھر کی چوکھٹ تک پہنچ پائے، وہ دیہاتی بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب پہنچ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چادر ان کے حوالے کی اور خود تیزی سے چوکھٹ کی طرف بڑھے اور گھر میں داخل ہوگئے اور فرمایا ان پر اللہ کی لعنت ہو، حضرت عائشہ نے عرض کیا یارسول اللہ! یہ لوگ تو ہلاک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے بنت ابی بکر! ہرگز نہیں، میں نے اپنے رب سے یہ شرط ٹھہرا رکھی ہے " جس کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی " کہ میں بھی ایک انسان ہوں اور ان چیزوں سے تنگ ہوتا ہوں جن سے عام لوگ تنگ ہوتے ہیں، اب اگر کسی مسلمان کے لئے میرے منہ سے کوئی جملہ نکل جائے تو اسے اس شخص کے حق میں کفارہ بنا دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24764]
حکم دارالسلام
قوله: إنما أنا بشر أضيق...، صحيح، وهذا إسناد فيه ابن أبى الزناد مختلف فيه
الحكم: قوله: إنما أنا بشر أضيق...، صحيح، وهذا إسناد فيه ابن أبى الزناد مختلف فيه
← پچھلی حدیث (24763) باب پر واپس اگلی حدیث (24765) →