مُؤَمَّلُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، مُوسى بْنِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ مُوسى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَدِيجَةَ، فَأَطْنَبَ فِي الثَّنَاءِ عَلَيْهَا، فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ النِّسَاءَ مِنَ الْغَيْرَةِ، فَقُلْتُ: لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ. قَالَتْ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا لَمْ أَرَهُ تَغَيَّرَ عِنْدَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ أَوْ عِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَعْلَمَ: رَحْمَةٌ أَوْ عَذَابٌ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ جب کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جو فوت ہوگئی اور جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ اس طرح سرخ ہوگیا جس طرح صرف نزول وحی کے وقت ہوتا تھا، یا بادل چھا جانے کے وقت جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دیکھتے تھے کہ یہ باعث رحمت ہے یا باعث زحمت۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25210]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2437
الحكم: إسناده صحيح، م: 2437