عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" قُلْتُ: هَذِهِ فُلَانَةٌ، وَهِيَ تَقُومُ اللَّيْلَ أَوْ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، فَكَرِهَ ذَلِكَ حَتَّى رَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رک جاؤ اور اپنے اوپر ان چیزوں کو لازم کیا کرو جن کی تم میں طاقت بھی ہو، واللہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تم ہی اکتا جاؤ گے، اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25772]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: فكره ذلك حتى ... فهو حسن لغيره، خ: 1151، م: 785
الحكم: حديث صحيح دون قولها: فكره ذلك حتى ... فهو حسن لغيره، خ: 1151، م: 785