بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 25255
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 25255
حدیث نمبر: 25255 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا، فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: " مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبُكُمْ، وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيكُمْ، وَتَسْتَنْصِرُونِي، فَلَا أَنْصُرُكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت میں کچھ گھٹن ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور کسی سے بات کئے بغیر واپس چلے گئے، میں نے حجروں کے قریب ہو کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے لوگو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم مجھے پکارو اور میں تمہاری دعائیں قبول نہ کروں، تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں اور تم مجھ سے مدد مانگو تو میں تمہاری مدد نہ کروں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25255]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عاصم بن عمر، الصحيح فى عثمان بن عمرو، عمرو بن عثمان بن هاني
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عاصم بن عمر، الصحيح فى عثمان بن عمرو، عمرو بن عثمان بن هاني
← پچھلی حدیث (25254) باب پر واپس اگلی حدیث (25256) →