بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24566
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24566
حدیث نمبر: 24566 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَتْ إِحْدَانَا عَلَى الْأُخْرَى، فَكَانَ مِنْ آخِرِ كَلَامٍ كَلَّمَهُ، أَنْ ضَرَبَ مَنْكِبَهُ، وَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي، يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي" ثَلَاثًا فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَيْنَ كَانَ هَذَا عَنْكِ؟ قَالَتْ: نَسِيتُهُ وَاللَّهِ فَمَا ذَكَرْتُهُ. قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمْ يَرْضَ بِالَّذِي أَخْبَرْتُهُ حَتَّى كَتَبَ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ اكْتُبِي إِلَيَّ بِهِ، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ بِهِ كِتَابًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عثمان غنی کو بلا بھیجا، وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس گفتگو کے آخر میں حضرت عثمان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا عثمان! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیض پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا، حضرت نعمان کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا اے ام المومنین! اب تک یہ بات آپ نے کیوں ذکر نہیں فرمائی؟ انہوں نے فرمایا واللہ میں یہ بات بھول گئی تھی، مجھے یاد ہی نہیں رہی تھی، وہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہ روایت حضرت امیر معاویہ کو سنائی لیکن وہ صرف میرے کہنے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ام المومنین کو خط لکھا کہ مجھے یہ لکھ کر بھجوا دیجئے، چنانچہ انہوں نے وہ حدیث ایک خط میں لکھ کر حضرت معاویہ کو بھیج دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (24565) باب پر واپس اگلی حدیث (24567) →