بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدٌ ، يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قالَ: فَحَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ , وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسُوا بِشَيْءٍ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيُقِرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِئَةِ كَذْبَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے " کاہنوں " کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بعض اوقات وہ جو بات بتاتے ہیں وہ سچ ثابت ہوجاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سچ ثابت ہونے والی وہ بات کسی جن نے فرشتوں سے سن کر اچک لی ہوتی ہے، پھر وہ اپنے موکل کے کان میں مرغے کی آواز کی طرح اس ڈال دیتا ہے جس میں وہ کاہن سو سے بھی زیادہ جھوٹ ملا کر آگے بیان کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24570]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7561، م: 2228
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7561، م: 2228