يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، الْمُفَضَّلُ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، قالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا، فَلَمْ تَجِدْهُ، فَقَالَتْ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ نَأْكُلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ؟" قَالَتْ: لَبَنًا أَهْدَيْتُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ"، فَسَكَبَتْ، فَقَالَ:" نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ"، فَفَعَلَتْ، فَقَالَ:" اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ، فَسَكَبَتْ، فَنَاوِلِي عَائِشَةَ"، فَنَاوَلَتْهَا، فَشَرِبَتْ، ثُمَّ قَالَ:" اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ"، فَسَكَبَتْ، فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ أَسْلَمْ، وَأَبْرَدَهَا عَلَى الْكَبِدِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ؟ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ، هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا، وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ، وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا، فَلَيْسُوا الْأَعْرَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام سنبلہ بارگاہ نبوت میں دودھ کا ہدیہ لے کر حاضر ہوئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں موجود نہ تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیہاتیوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور فرمایا اے ام سنبلہ! یہ تمہارے ساتھ کیا چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! دودھ ہے، جو میں آپ کے لئے ہدیہ لائی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام سنبلہ! اسے نکالو، انہوں نے نکالا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ابوبکر کو دو، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، دوسری مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے ڈالنے کو کہا، پھر تیسری مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو انڈیل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نوش فرمانے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبیلہ اسلم کا دودھ نوش فرما رہے تھے اور وہ جگر کو ٹھندک بخش رہا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یارسول اللہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے دیہاتیوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! یہ لوگ گنوار نہیں ہیں، یہ تو ہمارا دیہات ہیں اور ہم ان کا شہر ہیں، جب انہیں بلایا جائے تو یہ لبیک کہتے ہیں، یہ گنوار نہیں ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25010]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عبدالرحمن بن حرملة
الحكم: إسناده حسن من أجل عبدالرحمن بن حرملة