بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 25005
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 25005
حدیث نمبر: 25005 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَهَا:" فِي أَيِّ يَوْمٍ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: فِي يَوْمِ الِاثْنَيْنِ. فَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ، إِنِّي لَا أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ. قَالَ: فَفِيمَ كَفَّنْتُمُوهُ؟ قَالَتْ: فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: انْظُرِي ثَوْبِي هَذَا، فِيهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ أَوْ مِشْقٌ، فَاغْسِلِيهِ وَاجْعَلِي مَعَهُ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا أَبَتِ هُوَ خَلِقٌ. قَالَ: إِنَّ الْحَيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ، وَإِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَعْطَاهُمْ حُلَّةً حِبَرَةً، فَأُدْرِجَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَخْرَجُوهُ مِنْهَا، فَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ. قَالَ: فَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ، فَقَالَ: لَأُكَفِّنَنَّ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَسَّ جِلْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ قَالَ: بَعْدَ ذَلِكَ وَاللَّهِ لَا أُكَفِّنُ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَنَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفَّنَ فِيهِ. فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ، وَدُفِنَ لَيْلًا، وَمَاتَتْ عَائِشَةُ، فَدَفَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَيْلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے بتایا پیر کا دن ہے، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے فرمایا پھر مجھے بھی آج رات تک یہی امید ہے، انہوں نے پوچھا کہ تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کس چیز میں کفن دیا تھا، ہم نے بتایا تین سفید یمنی سحولی چادروں میں، جن میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا، وہ کہتی ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک کپڑا تھا جس پر گیرو کے رنگ کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے اس کپڑے کو دھو دینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملا کر مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا، ہم نے عرض کیا کہ ہم سارے کپڑے ہی نئے کیوں نہ لے لیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں، یہ تو کچھ دیر کے لئے ہوتے ہیں اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک دھاری دار یمنی چادر دی، جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لپیٹ دیا گیا، پھر لوگوں نے وہ چادر نکال کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین چادروں میں کفن دے دیا، عبداللہ نے اپنی چادر لے لی اور کہنے لگے میں اس چادر کو اپنے کفن میں شامل کرلوں گا جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جسم لگا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد ان کی رائے یہ ہوئی کہ میں اس چیز کو اپنے کفن میں شامل نہیں کروں گا جو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کفن میں شامل نہیں ہونے دی، بہرحال! وہ منگل کی رات کو انتقال کرگئے اور راتوں رات ہی ان کی تدفین بھی ہوگئی، اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے انہیں بھی رات ہی کو دفن کیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 941
الحكم: إسناده صحيح، خ: 941
← پچھلی حدیث (25004) باب پر واپس اگلی حدیث (25006) →