بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24679
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24679
حدیث نمبر: 24679 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّانُ، فَقِيلَ لَهَا: مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ؟ فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ" فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24679]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
← پچھلی حدیث (24678) باب پر واپس اگلی حدیث (24680) →