بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24681
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24681
حدیث نمبر: 24681 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا، ثُمَّ يَغْتَسِلُ، ثُمَّ يَغْدُو إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ" ، فَأَخْبَرْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بِقَوْلِهَا، فَقَالَ لِي: أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِقَوْلِ عَائِشَةَ. فَقُلْتُ: إِنَّهُ لِي صَدِيقٌ، فَأُحِبُّ أَنْ تُعْفِيَنِي، فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا انْطَلَقْتَ إِلَيْهِ. فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهَا، فَقَالَ عَائِشَةُ: إِذَنْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے، میں نے مروان بن حکم کو یہ حدیث سنائی تو اس نے مجھ سے کہا کہ حضرت عائشہ کی یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کر آؤ، میں نے اس سے کہا کہ وہ میرے دوست ہیں، آپ مجھے اس سے معاف ہی رکھیں تو بہتر ہے، اس نے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ان کے پاس ضرور جاؤ، چنانچہ میں اور مروان حضرات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوگئے اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق زیادہ جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24681]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
الحكم: حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
← پچھلی حدیث (24680) باب پر واپس اگلی حدیث (24682) →