هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، رُؤِيَ هَذَا الشَّهْرُ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ! قَالَتْ: وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْ ذَاكَ، لَمَا " صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کہ اے ام المومنین! اس دفعہ تو چاند ٢٩ ویں تاریخ کو ہی نظر آگیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ٣٠ سے زیادہ ٢٩ کے روزے رکھے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24518]
الحكم: إسناده صحيح