يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ ، عَامِرٌ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْخِيَرَةِ؟ فَقَالَتْ: " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكَانَ طَلَاقًا؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25666]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5263
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5263