يَزِيدُ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أُهْدِيَتْ لِحَفْصَةَ شَاةٌ وَنَحْنُ صَائِمَتَانِ، فَفَطَّرَتْنِي، فَكَانَتْ ابْنَةَ أَبِيهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " أَبْدِلَا يَوْمًا مَكَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدیئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25094]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري
الحكم: إسناده ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري