مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ، يَقُولُ: " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ، وَإِنِّي لَفِي آخَرَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا میں سمجھی کہ شاید اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہوں، چنانچہ میں انہیں تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ ریز ہیں اور یہ کہ رہے ہیں۔ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ اس پر میں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس حال میں ہیں اور میں کس سوچ میں ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25178]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن جريج
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن جريج