عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، تَقُولُ: إِنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتِبَةً لِأُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهَا، فَأَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَهُمْ، فَتُخْبِرَهُمْ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْتَاعَهَا، فَأُعْتِقَهَا، فَقَالُوا: إِنْ جَعَلْتِ لَنَا وَلَاءَهَا ابْتَعْنَاهَا مِنْهَا. فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" . وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمِرْجَلُ يَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا؟" قُلْتُ: أَهْدَتْهُ لَنَا بَرِيرَةُ، وَتُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " هَذَا لبَرِيرَةَ صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ" . قَالَتْ: وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقَهَا، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَارِي، فَإِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ، وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ انصار کے کچھ لوگوں کی " مکاتبہ " تھی، میں نے اسے خرید نے کا ارادہ کیا اور اس سے کہا کہ تم اپنے مالکوں کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ میں تمہیں خرید کر آزاد کرنا چاہتی ہوں، وہ کہنے لگے کہ اگر آپ اس کی ولاء ہمیں دینے کا وعدہ کریں تو ہم اسے آپ کو بیچ دیتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولا اسی کو ملتی ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو ہنڈ یا میں گوشت ابل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ کہاں سے آیا؟ میں نے عرض کیا کہ بریرہ نے ہمیں ہدیہ دیا ہے اور اسے صدقہ میں ملا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بریرہ کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ غلام کے نکاح میں تھی، جب وہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اختیار دیتے ہوئے فرمایا کہ چاہو تو اسی غلام کے نکاح میں رہو اور چاہو تو جدائی اختیار کرلو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25468]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: اختاري ... تفارقيه وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح دون قوله: اختاري ... تفارقيه وهذا إسناد حسن