عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ، بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا، وَزِدْتُ فِيهَا مِنَ الْحَجَرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرِيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتْ الْكَعْبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو شہید کرکے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ باہر نکلنے کے لئے اور حطیم کی جانب سے چھ گز زمین بیت اللہ میں شامل کردیتا، کیونکہ قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اسے کم کردیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25463]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رجل الراوي عن عائشة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رجل الراوي عن عائشة