عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ . وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ قَالَ: رَوْحٌ: أَبُو الْجُعَيْدِ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ، قَالَ لَهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: فَرَدَدْتُهُ، فَقَالَ لِي هِشَامٌ: إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ ذَلِكَ، قَالَ: " فَهَلَّا أَذِنْتِ لَهُ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ، أَوْيَدُكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد (یا ابوالجعید یا ابوالقعیس) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25651]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4796، م: 1445
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4796، م: 1445