عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ كَلِمَاتٍ، كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ جِدًّا يَقُولُ: " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ" . قَالَ: كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ، وَيَذْكُرُهُنَّ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن طاؤس کہتے ہیں کہ ان کے والد نماز عشاء کے دوسرے تشہد میں چند کلمات کہا کرتے تھے اور انہیں بہت اہمیت دیتے تھے اور وہ کلمات یہ تھے " میں عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، مسیح دجال کے شر سے " عذاب قبر سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں "۔ اور وہ ان کلمات کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25648]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون تقييده بالعشاء الآخرة
الحكم: حديث صحيح دون تقييده بالعشاء الآخرة