حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بُكَيْرٌ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَعَلْتُ عَلَى بَابِ بَيْتِي سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ،" فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ، نَظَرَ إِلَيْهِ، فَهَتَكَهُ" , قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ، فَقَطَعْتُ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ،" فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کردیئے، جس کے میں نے دو تکیے بنا لئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان پر ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24718]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة ، ولانقطاعه بين بكير والقاسم، خ: 2479، م: 2107
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة ، ولانقطاعه بين بكير والقاسم، خ: 2479، م: 2107