حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً، وَكَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَائِمًا، فَلَمَّا كَبُرَ وَثَقُلَ، كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا، وَكَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ، حَتَّى يُرِيدَ أَنْ يُوتِرَ، فَيَغْمِزُنِي، فَأَقُومُ، فَيُوتِرُ ثُمَّ يَضْطَجِعُ، حَتَّى يَسْمَعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يُلْصِقُ جَنْبَهُ بِالْأَرْضَ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور اکثر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی اور جسم بھاری ہوگیا تو اکثر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں اسی بستر پر ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آرام فرماتے تھے اور جب وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں بھی کھڑی ہو کر وتر پڑھ لیتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیٹ جا تے، جب اذان کی آواز سن لیتے تو اٹھ کردو رکعتیں ہلکی سی پڑھتے پھر اپنے پہلو کو زمین پر لگا دیتے اور اس کے بعد نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24715]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن الهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن الهيعة