حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ حَتَّى بَعْدَ ثَلَاثٍ؟ قَالَتْ: " لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي مِنْهُنَّ إِلَّا قَلِيلٌ، فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُطْعِمَ مَنْ ضَحَّى مَنْ لَمْ يُضَحِّ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُخَبِّئُ الْكُرَاعَ مِنْ أَضَاحِيِّنَا، ثُمَّ نَأْكُلُهَا بَعْدَ عَشْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کو بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24707]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، زهير سمع من أبى إسحاق بعد اختلاطه، ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، زهير سمع من أبى إسحاق بعد اختلاطه، ولكن توبع