سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ , قَالَ لَهَا: يَا بُنَيَّةُ، أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: " يَوْمَ الِاثْنَيْنِ"، قَالَ: فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ:" يَا أَبَتِ، كَفَّنَّاهُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ، جُدُدٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ، أُدْرِجَ فِيهَا إِدْرَاجًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پو چھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے پوچھا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے عرض کیا ابا جان! ہم نے انہیں یمن کی تین نئی سفید سحولی چادروں میں کفن دیا تھا، جس میں قمیض تھی اور نہ ہی عمامہ، بس انہیں اس میں لپیٹ دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24869]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه، خ: 1387
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه، خ: 1387