يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ ، كَرِيمَةُ ابْنَةُ هَمَّامٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ ابْنَةُ هَمَّامٍ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَأَخْلَوْهُ لِعَائِشَةَ ، فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ: مَا تَقُولِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحِنَّاءِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ لَوْنُهُ، وَيَكْرَهُ رِيحَهُ، وَلَيْسَ بِمُحَرَّمٍ عَلَيْكُنَّ بَيْنَ كُلِّ حَيْضَتَيْنِ أَوْ عِنْدَ كُلِّ حَيْضَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد حرام میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عائشہ کے لئے ایک الگ جگہ بنا رکھی ہے، ان سے ایک عورت نے پوچھا کہ اے ام المومنین! مہندی کے متعلق آپ کیا کہتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا رنگ اچھا لگتا تھا لیکن مہک اچھی نہیں لگتی تھی، البتہ تم پر دو ماہواریوں کے درمیان اسے حرام نہیں کیا گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24861]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل كريمة بنت همام، فإنها مستورة
الحكم: إسناده ضعيف لأجل كريمة بنت همام، فإنها مستورة