يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فِي سَاعَةٍ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا، فَرَاثَ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَهُ بِالْبَابِ قَائِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي انْتَظَرْتُكَ لِمِيعَادِكَ"، فَقَالَ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا، وَلَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ، وَكَانَ تَحْتَ سَرِيرِ عَائِشَةَ جِرْوُ كَلْبٍ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكِلَابِ حِينَ أَصْبَحَ فَقُتِلَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی وقت آنے کا وعدہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وقت مقرہ پر ان کا انتظار کرتے رہے، لیکن جب وہ نہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے باہر نکلے، دیکھا کہ دروازے پر کھڑے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں آپ کے وعدہ کے مطابق آپ کا انتظار کرتا رہا، انہوں نے جواب دیا کہ گھر کے اندر کتا موجود ہے اور ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا تصویریں ہوں، دراصل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے اسی وقت باہر نکال دیا گیا اور صبح ہونے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25100]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: "ثم أمر بالكلاب..... فقتلت" فصحيح لغيره، وهذا اسناد حسن
الحكم: حديث صحيح دون قوله: "ثم أمر بالكلاب..... فقتلت" فصحيح لغيره، وهذا اسناد حسن