عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ؟ فَقَالَ: " خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ:" تَوَضَّئِي بِهَا". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا، ثُمَّ قَالَ:" تَوَضَّئِي بِهَا". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَفَطِنْتُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ، فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! جب میں پاک ہوجاؤں تو غسل کس طرح کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خوشبو لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کیا کرو، اس نے پھر یہی سوال کیا تو سبحان اللہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا چہرہ ہی پھیرلیا اور پھر فرمایا اس سے پاکی حاصل کرو، میں سمجھ گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا مقصد ہے؟ چنانچہ میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا مقصد ہے؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24907]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 315، م: 3332
الحكم: إسناده صحيح، خ: 315، م: 3332