عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، مَكْحُولٌ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِيهِ مَكْحُولٌ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَّةٍ، فَهُوَ لَهَا، وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ، وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان جس چیز کے ذریعے کسی عورت کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کرتا ہے مثلاً مہر یا کوئی اور سامان تو وہ اس عورت کی ملکیت میں ہوتا ہے اور جس چیز سے اس عورت کے باپ، بھائی یا سرپرست کا معاملہ نکاح کے بعد اکرام کیا جاتا ہے تو وہ اس کا ہوجا تا ہے اور انسان کی بیٹی یا بہن اس بات کی زیادہ حقدار ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کا اکرام کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24909]
حکم دارالسلام
حسن من حديث عبدالله بن عمرو بن العاص، وهذا إسناد مختلف فيه
الحكم: حسن من حديث عبدالله بن عمرو بن العاص، وهذا إسناد مختلف فيه