مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا، فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ، فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ، عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً بَعْدُ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں ایک یہودیہ آئی، وہ کہنے لگی اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! عذاب قبر برحق ہے، اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جو نماز بھی پڑھتے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں عذاب قبر سے پناہ مانگی [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25419]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1372 ، م: 586
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1372 ، م: 586