مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، ذَكْوَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ . قَالَ رَوْحٌ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّار. فَقَالَ: " وَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَأَرَاهُمْ يَتَرَدَّدُونَ" قَالَ الْحَكَمُ:" كَأَنَّهُمْ" أَحْسَبُ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلَّ كَمَا أَحَلُّوا" . قَالَ رَوْحٌ: يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ، قَالَ: كَأَنَّهُمْ هَابُوا، أَحْسَبُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذی الحجہ کی چار تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو غصے کی حالت میں تھے، میں نے کہا یارسول اللہ! آپ کو کس نے غصہ دلایا ہے؟ اللہ اسے جہنم رسید کرے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دیکھو تو سہی، میں نے لوگوں کو ایک بات کا حکم دیا، پھر انہیں تردد کا شکار دیکھ رہا ہوں، اگر یہ چیز جواب میرے سامنے آئی ہے، پہلے آجاتی تو میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لاتا بلکہ یہاں آ کر خرید لیتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام کھولا جیسے لوگوں نے احرام کھول لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25425]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1211