مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ عِنْدَ إِحْرَامِهِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَهُ، قَالَ: فَسَأَلَ أَبِي عَائِشَةَ وَأَخْبَرَهَا، بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَتْ:" يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْتَضِحُ طِيبًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا آدمی اپنے احرام پر (احرام کی نیت سے قبل) خوشبو لگا سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ایسا کرنے سے زیادہ پسند یہ کہ اپنے کپڑوں پر تار کول مل لوں، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی مسئلہ پوچھا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب بھی ان سے زیادہ ذکر کردیا تو انہوں نے فرمایا ابوعبدالرحمن پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میں تو خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے تھے، پھر صبح کو احرام کی نیت کرلیتے اور ان کے احرام سے خوشبو مہک رہی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25421]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 267، م: 1192
الحكم: إسناده صحيح، خ: 267، م: 1192