حُسَيْنٌ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا اشْتَرَتْ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَتْهُ إِيَّاهُ، وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً، فَقَالَ لَهَا: " اقْطَعِيهِ وِسَادَتَيْنِ". قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَكُنْتُ أَتَوَسَّدُهُمَا، وَيَتَوَسَّدُهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک چادر خریدی جس پر کچھ تصویریں بنی ہوئی تھیں، ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس سے چھپر کھٹ بنائیں گی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو انہیں دکھایا اور اپنا ارادہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کاٹ کردو تکیے بنا لو، میں نے ایسا ہی کیا اور میں بھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس سے ٹیک لگالیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24812]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لأجل أبى أويس
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لأجل أبى أويس