حُسَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَادِيَةِ، إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَأَعْطَى نِسَاءَهُ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَهُنَّ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي، فَأَعْطَانِي بَعِيرًا آدَمًَا صَعْبًا، لَمْ يُرْكَبْ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، ارْفُقِي بِهِ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يُخَالِطُ شَيْئًا إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُفَارِقُ شَيْئًا إِلَّا شَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی دیہات (جنگل) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے مجھے ایک ایسی اونٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24808]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2594
الحكم: إسناده صحيح، م: 2594