حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي حَفْصَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ" أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ وَأَمَرَ، فَنُودِيَ: إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلَاتِهِ، قَالَتْ: فَأَحْسِبُهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ، وَلَمْ يَسْجُدْ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جَلَسَ، وَجُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو رباسعادت میں جب سورج گرہن ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کا حکم دیا، نماز کا اعلان کردیا گیا کہ نماز تیار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور نماز میں طویل قیام فرمایا اور غالباً اس میں سورت بقرہ کی تلاوت فرمائی، پھر ایک طویل رکوع کیا، پھر " سمع اللہ لمن حمدہ " کہہ کر پہلے کی طرح کافی دیر کھڑے رہے اور سجدے میں نہیں گئے بلکہ دو بارہ رکوع کیا، پھر سجدے میں گئے اور دوسری رکعت میں کھڑے ہو کر بھی اس طرح کیا کہ ہر رکعت میں دو رکوع کئے، پھر التحیات میں بیٹھ گئے اور اس دوران سورج گرہن ختم ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24670]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى حفصة مولي عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى حفصة مولي عائشة