هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، مُبَارَكٌ ، الْحَسَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبِرِينِي بِخُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ، أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ، قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ سورة القلم آية 4" . قُلْتُ: فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ، قَالَتْ: " لَا تَفْعَلْ، أَمَا تَقْرَأُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 , فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ وُلِدَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ام المومنین! مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق کے بارے بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق تو قرآن ہی تھا، کیا تم قرآن نہیں پڑھتے، اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ» [سورۃ القلم، آیت 4] میں نے عرض کیا کہ میں گوشہ نشین ہونا چاہتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ایسا مت کرو، کیا تم قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھتے، «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» [سورۃ الأحزاب، آیت 21] تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر میں اسوہ حسنہ موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نکاح بھی کیا ہے اور ان کے ہاں اولاد بھی ہوئی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24601]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المبارك بن فضالة مدلس ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، المبارك بن فضالة مدلس ولكن توبع