قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَرْسَلْتُ بَرِيرَةَ فِي أَثَرِهِ لِتَنْظُرَ أَيْنَ ذَهَبَ، قَالَتْ: فَسَلَكَ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَوَقَفَ فِي أَدْنَى الْبَقِيعِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَرَجَعَتْ إِلَيَّ بَرِيرَةُ، فَأَخْبَرَتْنِي، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ سَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ خَرَجْتَ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: " بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت گھر سے نکلے، میں نے بریرہ کو ان کے پیچھے یہ دیکھنے کے لئے بھیجا کہ وہ کہاں جاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع کی طرف چل پڑے، وہاں پہنچ کر اس کے قریبی حصے میں کھڑے رہے، پھر ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرکے واپس آگئے، بریرہ نے مجھے واپس آکر اس کی اطلاع کردی، جب صبح ہوئی تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ رات کو کہاں گئے تھے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ ان کے لئے دعا کروں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24612]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين ،
الحكم: إسناده محتمل للتحسين ،